Friday, May 01, 2009

Weekly Humshehri

Weekly Humshehri: "صحت عامہ کے مسائل اور طبی تحقیق کی ضرورت"
صحت عامہ کے مسائل اور طبی تحقیق کی ضرورت
شعبہ صحت کی جدید ضرورتوں کے حوالے سے فیچر
ڈاکٹر عبدالرحمٰن خواجہ
انسان اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود نہایت کمزور اور نازک حیثیت کا حامل ہے۔ موسم کی زیادتی یا بے احتیاطی سے بیمار ہو سکتا ہے اور یہ بیماری لمبے عرصے تک اُسے صاحبِ فراش رکھ سکتی ہے۔ شعبہ طب و صحت انسان کی صحت اور بیماری سے متعلق ایک نہایت اہم اور ضروری شعبہ ہے۔ اِس شعبے کے تحت نظامِ صحت قائم ہے۔ جس میں ہسپتال، کلینک، نرسنگ ہومز اور ہیلتھ سنٹرز شامل ہیں۔ حکومت کا محکمہ صحت رات دن عام لوگوں کی صحت کا ذمہ دار ہے۔ شعبہ طب و صحت کی کائنات کا مرکز مریض ہے۔
جدید دور میں طب و صحت کی ترقی اور کمپیوٹر انفارمیشن سائنس اور ریسرچ سائنس کی ترقی کی وجہ سے یہ شعبہ معجزہ نُما ہو گیا ہے۔ پیچیدہ سے پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص اور علاج ممکن ہو گیا ہے۔ تقریباً ہر بیماری کا انجام معلوم ہو چکا ہے اور بہت سی بیماریوں سے بچنے کے طریقے منصہ شہود پر آ چکے ہیں۔ عام مریض گو اِس بات سے واقف نہیں کہ اُس کا مرض کیا ہے اور اُس کا علاج کیسے ہو گا؟ مگر ایسے معالج اور طبیب ہر جگہ موجود ہیں جو کہ نہایت سُرعت کے ساتھ مریض کو مطمئن کر سکتے ہیں کہ اُس کا علاج ممکن ہے اور اُسے اتنے عرصے کے بعد مکمل شفا ہو جائے گی۔ دوسری صورت میں یہ معلوم کرنا بھی مشکل نہیں رہا کہ علاج کی ناکامی کا فیصد کیا ہے؟ اور کتنے عرصے کے بعد زندگی مریض کا ساتھ چھوڑ دے گی؟ اِس صورت حال میں ہسپتالوں اور ہیلتھ سنٹرز میں اگر مریض اپنے معالج کی لاعلمی یا غلطی کی وجہ سے زندگی کی نعمت سے محروم ہوتا ہے تو یہ نظام کی ناکامی ہے۔ امریکہ میں ایک تحقیق کے مطابق ڈاکٹروں کی غلطیوں کی وجہ سے معذور ہونے والوں یا مرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں جاپہنچی ہے ۔ چونکہ اُن کا نظامِ شماریات یعنی ریکارڈ سسٹم نہایت مضبوط بنیادوں پر قائم ہے اِس لیے یہ معلومات ظاہر ہوئیں اور اِس سچائی کو چھپائے بغیر نہ صرف مان لیا گیا بلکہ اِس کی تشہیر بھی کی گئی۔ اگر آپ غلطی تسلیم کر لیتے ہیں تو آپ اُس غلطی کے تدارک کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اگر غلطی تسلیم نہ کی جائے تو تدارک کا تو ذکر ہی کیا۔
جب ایک مریض ہسپتال میں داخل ہوتا ہے تو اُس مریض سے ڈاکٹر پوری ہسٹری لیتا ہے اور معائنہ مکمل کرنے کے بعد ایک ابتدائی تشخیص کر لیتا ہے۔ اُس کے بعد ٹیسٹ، ایکسرے اور ای سی جی، ایم آر آئی، الٹرا سانڈ وغیرہ کی مدد سے آخری تشخیص کرنے کے بعد علاج کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ علاج دوائیوں سے کیا جاتا ہے اور یا آپریشن کی مدد سے۔ دوسری صورت میں شعاعوں یا انجیکشنز کی مدد لی جاتی ہے۔ مریض کی صحت اُس کے علاج کی نوعیت اور بیماری کے مراحل کے بارے میں روزمرہ معلومات لی جاتی ہیں اور اُن پر باقاعدہ بحث و مباحثہ کرنے کے بعد لائحہ عمل ترتیب دیا جاتا ہے۔ اِس دوران مریض کی تمام تفصیلات ایک چارٹ میں ریکارڈ کی جاتی ہے، جسے میڈیکل چارٹ کہا جاتا ہے۔ جدید اور ترقی یافتہ ممالک میں یہ تمام ریکارڈ تفصیلات کے ساتھ کمپیوٹرائزڈ شکل میں محفوظ ہو جاتا ہے اور اِس کے ساتھ ساتھ علاج کی تفصیل نرس کے نوٹس، آپریشن کے نوٹس، تمام ٹیسٹوں اور تشخیصی عوامل کی تفصیل بھی ریکارڈ کی جاتی ہے اور ایک الیکٹرانک فائل کی صورت میں محفوظ کر لی جاتی ہے۔ مریض کو ایک کارڈ دے دیا جاتا ہے۔ وہ جب بھی ہسپتال آتا ہے تو اُس کارڈ کی وجہ سے مریض کا تمام ریکارڈ چند لمحوں میں ڈاکٹر کے سامنے موجود ہوتا ہے۔ مریض کا علاج کرنے کے بعد مزید ریکارڈ اُس کارڈ میں داخل کر دیا جاتا ہے۔ اِس طرح مریض کی تمام زندگی کے تمام امراض اور اُن کے علاج کی تفاصیل اُس الیکٹرانک ریکارڈ میں موجود ہوتی ہیں اور تمام ملک میں کہیں سے بھی نکالی جا سکتی ہیں۔ پھر دوائیوں کی تفصیل، انجیکشنز کی تعداد، دوائیوں اور انجیکشنز دینے کا وقت اور دوسری اہم باتیں اِس ریکارڈ کا حصہ بنتی جاتی ہیں۔ اگر مریض دوسرے ہسپتال جاتا ہے تو یہ ریکارڈ اُس کارڈ کی بدولت اُس ہسپتال میں بھی شفٹ ہو جاتا ہے۔ اِس سے نہ صرف ڈاکٹر کا وقت بچ جاتا ہے بلکہ مریض کی تکالیف میں کمی ہوتی ہے اور تشخیص کے تکلیف دہ مراحل کو دہرایا نہیں جاتا۔ اِس نظام کو جدید اصطلاح میں میڈیکل انفارمیٹکس یا طبی علمیات کہا جاتا ہے۔ یہ نظام کمپیوٹر سائنس، انفارمیشن سائنس اور میڈیکل سائنس کے باہمی اتصال سے وجود میں آیا ہے۔ راقم جب ملائشیا کے جدید انتظامی دارالحکومت پُترا جائیا کے پیپرلیس (Paperless) ہسپتال کا دورہ کر رہا تھا تو ڈاکٹر امین نورالدین نے اِن تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اِس ہسپتال میں سارا نظام میڈیکل انفارمیٹکس (Medical Informatics)کے تحت ترتیب دیا گیا ہے۔ اِس نظام کی خوبصورتی یہ ہے کہ مریض کا علاج تو ہوتا ہی ہے اُس کے ساتھ ساتھ دوسری جزئیات اور عوامل بھی ریکارڈ کا حصہ بن جاتے ہیں اور تحقیق کرنے والے بعد میں اُن کی چھان پھٹک کر سکتے ہیں اور مندرجہ ذیل اہم معلومات سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
-1 ہسپتال میں کتنے مریض آئے؟
-2 کس کس مرض کے کتنے مریض تھے؟
-3 اُن کا علاج کس طریقے سے کیا گیا؟
-4 علاج کا نتیجہ کیا نکلا؟
-5 کون سا طریقہ علاج بہترین ہے؟
-6 کس مرض سے بچا جا سکتا ہے؟
-7 تشخیص کے نئے طریقے کس طریقے سے ڈاکٹروں کی مدد کرتے ہیں؟
-8 علاج کے دوران ڈاکٹروں، نرسوں، لیبارٹری سٹاف اور پیرا میڈیکل سٹاف سے کیا کیا غلطیاں سرزد ہوئیں؟
-9 مستقبل کی منصوبہ بندی کس طریقے سے کی جائے کہ مریضوں کا علاج آسان اور فوری ممکن ہو سکے؟
-10 حکومت اور محکمہ صحت کو عام لوگوں تک کیا کیا معلومات پہنچانی چاہئیں تاکہ عام لوگ اِن امراض بچ سکیں؟۔
ہمارے ملک میں ڈاکٹر صرف اُس شخص کو کہتے ہیں جو علاج معالجہ میں مصروف ہو یا آپریشن کر سکتا ہو۔ اِس کو ہم اپنی زبان میں کلی نیشن (Clinician)کہتے ہیں۔ ہمارے کلی نیشن دنیا بھر میں مقبول ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور علمی قابلیت کا جھنڈا گاڑھ چکے ہیں۔ مگر اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ڈاکٹر کلی نیشن ہی بنے۔ دوسرے شعبے بھی اُتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں۔
ایک اور شعبہ ہیلتھ اکنامکس کا ہے۔ یعنی صحت اور بیماری کی معاشیات۔ ایک شخص صحت مند ہے اور کما رہا ہے اور وہ شخص بیمار پڑ جاتا ہے اور ہسپتال میں داخل ہو جاتا ہے تو اِس کی معاشیات کیا ہو گی؟ اُس مریض کے حوالے سے، اُس کے خاندان کے حوالے سے، حکومت کے اخراجات کے حوالے سے اور اُس بیماری کے انجام کے اثرات کے حوالے سے کہ اگر وہ صحت یاب نہ ہوا تو کیا ہو گا؟ اور اگر وہ معذور ہو گیا یا زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا تو اِس کے اثرات کیا ہوں گے؟ اگر کوئی ڈاکٹر ایم بی بی ایس کے ساتھ ساتھ اکنامکس کی تعلیم بھی حاصل کر لیتا ہے تو وہ معاشرے کے لیے یقیناً ایک نعمت بن جائے گا۔ کیونکہ اِن علوم کی وجہ سے کئی دوسرے علوم اور مہارتیں اُسے حاصل ہو جائیں گے۔ مثال کے طور پر نئی منصوبہ بندی، بجٹ بنانا، اخراجات ترتیب دینا اور مستقبل کے اخراجات کے بارے میں رائے دینا۔ ہسپتال، کلینک، ہیلتھ سنٹر صرف بلڈنگ کا نام نہیں ہوتے بلکہ اُن میں لوگ بھی ہوتے ہیں اور آلات بھی۔ ہیلتھ اکنامکس کے ماہر نہ صرف ہسپتالوں کی مانیٹرنگ اور اُن کے کام کا آڈٹ بھی کرتے ہیں اور اِس بات کی نشاندہی بھی کرتے ہیں کہ اِن اقدامات کی وجہ سے اخراجات میں کمی ہو سکتی ہے اور پسندیدہ نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ وہ نہ صرف پرانے منصوبوں کی جانچ کر کے یہ بتا سکتے ہیں کہ اِن منصوبوں کی قیمت کیا تھی؟ اور اُس قیمت سے کیا فوائد حاصل ہوئے؟ وہ فوائد کم تھے یا زیادہ ہو سکتے تھے؟
زندگی کی اہمیت اور صحت سے اس کا تعلق اور بیماری کی صورت میں نقصان کا اندازہ ایک ماہر ہیلتھ اکا نومسٹ ہی لگا سکتا ہے۔ پاکستان میں یہ شعبہ ابھی نوزائیدہ ہے۔ ڈاکٹروں کو اِس شعبے میں آنا چاہیے۔
تحقیق اور ترقی نئے علوم کے حصول کے لیے لابُد ہے۔ جدید اور ترقی یافتہ ممالک میں بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ تحقیق کی ترویج اور نتائج کے حصول میں خرچ کیا جاتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے وہ لوگ ترقی یافتہ کہلاتے ہیں اور طاقتور ہیں۔ تحقیق ایک علمی عمل ہے اور اِس کے لیے علمی ماحول اور عالم کی عزت اور احترام نہایت ضروری ہے۔ کلی نیشن (Clinician)سائنٹسٹ (Scientist)ہوتا ہے۔ اُس کی زندگی ہمہ وقت مریضوں اور امراض کے درمیان گزرتی ہے۔ اگر کلی نیشن کو تحقیق کے مواقع مہیا کیے جائیں تو یقیناً صورت حال مختلف ہو جائے گی۔ ہمارے ملک میں فصلوں، پھلوں، جانوروں اور مچھلیوں پر تحقیق کے بڑے بڑے ادارے موجود ہیں اور رات دن نئی تحقیق دنیا کے سامنے پیش کرتے رہتے ہیں۔ بزنس ایڈمنسٹریشن، ماس کمیونی کیشن اور سوشیالوجی اور اینتھرو پولوجی پر بھی قابلِ قدر تحقیق ہو رہی ہے۔ ادب، فلسفہ، شاعری اور سیاسیات، معاشیات، مذہب پر بھی تحقیق جاری ہے۔ صرف طب و صحت، نظامِ صحت، ادویات اور فارماکولوجی وغیرہ میں تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ طب و صحت کی تحقیق کو عام کیا جائے اور میڈیکل یونیورسٹیوں کو وہی اہمیت دی جائے جو کہ دوسرے علوم کی یونیورسٹیوں کو دی جاتی ہے۔ طب و صحت کے محققین کو وہی مواقع دیے جائیں جو کہ دوسرے علوم کے محققین کو حاصل ہیں۔ اِس سے ایک نیا پیشہ وجود میں آئے گا جسے میڈیکل ریسرچ کہا جاتا ہے۔ جب تک آپ ایک ڈاکٹر کو فکرِ معاش سے آزاد نہیں کریں گے وہ تحقیق کے بارے میں سوچنے سے گریز کرے گا۔
ایک اور شعبہ جو توجہ چاہتا ہے میڈیکل سٹیٹسٹکس (Medical Statistics) یا بئیو سٹیٹسٹکس (Bio Statistics)کہلاتا ہے۔ یہ شعبہ تین طریقوں سے ڈاکٹرز کی مدد کرتا ہے۔
-1 تحقیق کو سوچنا اور ابتدائی ڈیزائن مکمل کرنا۔
-2 تحقیق کو سائنسی بنیادوں پر جاری رکھتے ہوئے مکمل کرنا۔
-3 تحقیق سے وہ نتائج اخذ کرنا جو سچائی اور حقیقت پر مبنی ہوں۔
جو تحقیق شماریات کے علم کے بغیر کی جائے گی ناپختہ اور غیر سائنسی ہو گی۔ اِس لیے کسی مقر جریدے (Impact Factor Indexed Journal)میں شائع نہیں ہو سکے گی اور جو تحقیق چھپ نہ سکے وہ سرے سے تحقیق ہی نہیںکہلاتی ۔ مسائل اور اُن کا حل صرف تحقیق کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ڈاکٹرز کو تحقیق کے شعبے میں لانے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جو کہ میڈیکل یونیورسٹیوں میں ممکن ہے۔

No comments:

Post a Comment